کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کیا ہوتا ہے؟
کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بنیادی طور پر ایک ملک کی ٹوٹل آمدن اور ٹوٹل خرچ میں فرق ہے- اگر یہ فرق جمع میں ہو- یعنی آمدن زیادہ اور خرچ کم ہو تو اس کو کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کہتے ہیں اور اگر یہ فرق منفی میں ہو یعنی خرچ زیادہ اور آمدن کم تو اس کو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کہتے ہیں- آمدن میں برآمدات، انویسٹمینٹس، بیرون ملک سے بھیجا گیا پاکستانی پیسہ اور ٹیکس کی مد میں اکٹھا کیا گیا پیسہ شامل ہوتا ہے- جبکہ خرچ میں درآمدات، قرضے کی ادایئگیاں، حکومتی اخراجات شامل ہوتے ہیں-
ماضی کی حکومت میں ہماری آمدن کم تھی اور اخراجات زیادہ تھے- کیونکہ ہماری معیشت کی بنیاد اسحاق ڈار نے جن ٹرمز پر رکھی تھی وہ ایک نظر کا دھوکہ تھا لیکن اس نے ملک کو اندر سے کھوکھلا کردیا تھا- لہذا جیسے ہی اسحاق ڈار نکلا وہ ساری معیشت یک دم سے اپنی اصل اوقات پر واپس آگئی- ڈالر جس کو 102 پر زبردستی روک کر رکھا تھا-اور اس کو 102 پر رکھنے کے لیئے سالانہ 5 بلین ڈالر مزید قرضہ لیکر مارکیٹ میں رکھا جاتا تھا تاکہ اس سے ملک میں ڈالر کی قلت پیدا نہ ہو اور یوں ڈالر کی قیمت 102 پر ہی رہے-اس سے ہمارے روپے کی قدر بڑھتی گئی اور ہماری چیزیں انٹرنیشنل مارکیٹ میں مہنگی ہوتی گئی لہذا ہمیں امپورٹ سستی پڑنے لگی لوگوں نے اپنے انڈسٹریل یونٹس بند کرکے دوسرے ممالک سے اشیاء امپورٹ کرکے اپنے ملک اور دوسرے ممالک میں بھجوانی شروع کردی-کیونکہ اپنے ملک میں بنانے کی بجائے ایسے اشیا سستی پڑتی تھی- لہذا ہمارے خرچے بڑھتے گئے-
چور کرپٹ قیادت کی وجہ سے انویسٹمینٹ کم ہونی شروع ہوگئی- اور 5 سالوں میں ایک میجر انویسٹمینٹ صرف سی پیک تھی جس کی پلاننگ مشرف کے دور سے چل رہی تھی- اس کے علاوہ 5 سال میں کوئی میجر انویسٹمینٹ نہیں آسکی-
لہذا ہمارا خسارہ بڑھنے لگا-اور ہمارا ماہانہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 بلین ڈالر سے تجاوز کرگیا- اب ایک ملک جس کی آمدنی کے رستے تقریبا بند ہوچکے ہوں اس کے لیئے ماہانہ 2 بلین ڈالر یعنی سالانہ تقریبا 24 بلین ڈالر صرف اپنا اخراجات چلانے کے لیئے چاہیئے- اس حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر اس چیز کو ٹیک اپ کیا- میں ستمبر 2018 سے معیشت پر پوسٹ کررہا ہوں اور تواتر سے یہی بات کرتا آرہا ہوں کہ پہلے مرحلے میں ہمارے ملک کو صحیح راستہ پر ڈالنا ہے- اور اس چیز کے لیئے عمران خان کو بہت سے مشکل فیصلے کرنے ہونگے-جو ہوسکتا عمران خان کی سیاست کے لیئے نقصان دہ ہوں لیکن پاکستان کے لیئے بہت بہتر ہونگے-
عمران خان نے ڈالر کی قیمت کو مستحکم رکھنے کے لیئے 5 بلین ڈالر سالانہ قرضہ نہیں لیا- جس سے ڈالر کا ریٹ مارکیٹ ریٹ کے مطابق طے ہونے لگا- مارکیٹ ریٹ یہ ہوتا کہ اگر مارکیٹ میں ڈالر کی قلت ہوجائے تو ڈالر مہنگا ہوجاتا ہے اور اگر ڈالر کثرت میں ہوجائے تو ڈالر سستا ہوجاتا ہے- اور چونکہ اس وقت ڈالر ریٹ اپنی اصل مارکیٹ ریٹ پر نہیں تھا- لہذا اس کی ویلیو میں واضح فرق دیکھنے کو ملتا تھا- اور میں اس وقت بھی تواتر سے کہتا تھا کہ ڈالر کے ریٹ کو ایکوی لبریم (سٹیبل) میں آنے میں تھوڑا وقت لگے گا- اور اب جبکہ ایکوی لبریم میں آگیا- تو آپکو ڈالر کے ریٹ میں تبدیلی بہت کم دیکھنے کو مل رہی ہے- حالانکہ اب ہم ڈالر کی قیمت کو یہاں رکھنے کے لیئے 5 بلین ڈالر سالانہ مارکیٹ میں بھی نہیں رکھ رہے-
اس سے جہاں ہمیں اس غیر ضروری خرچے سے جان چھوٹی وہیں ہماری برآمدات بیرونی دنیا میں سستی ہوتی گئی- مثلا افغانستان کی کرنسی ہم سے اوپر ہے تو افغانستان میں پاکستان کی چیزیں زیادہ تعداد میں برآمد ہوسکتی ہیں- اور افغانستان پاکستان کے لیئے ایک بہت اچھی مارکیٹ ہے اور مستقبل میں وہاں سے انڈیا کی چھٹی ہونی تو اس افغانستان کی مارکیٹ پر پاکستان کا مکمل قبضہ ہوسکتا ہے-
لہذا برآمدات بڑھنے لگی- اور درآمدات کم ہونے لگی- انویسٹمینٹ آنے لگی اور بیرون ملک پاکستانیوں کے بھیجے گئے پیسوں کی تعداد میں اضافہ ہوا- جس میں ابھی مزید کام کی ضرورت ہے- یعنی بینکنگ چینلز کو آسان بنایا جائے تاکہ بیرون ملک پاکستانی حوالہ اور ہنڈی کی بجائے بینکگ چینل سے پیسے بھیجنے میں زیادہ آسانی محسوس کرے-
ٹیکس کولیکشن میں اضافہ ہوا- سال 2018 میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد تقریبا 14 لاکھ تھی- اور 2 اگست 2019 کے ڈیٹا کے مطابق اس ایک سال میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد 14 لاکھ سے بڑھ کر 25 لاکھ تک پہنچ گئی ہے- اور اس کے علاوہ ان ڈائریکٹ ٹیکسز کی مقدار بھی بڑھ گئی ہے- اور حکومتی اخراجات کم ہوئے اور یوں سب چیزوں کو ملا کر مالی سال 2019-2020 کے پہلے مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 579 ملین ڈالر رہا- جبکہ پچھلے سال جولائی کے مہینے میں یہ مالی خسارہ 2.13 بلین ڈالر رہا- اگر ہم 2019-2020 کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو 600 ملین ڈالر کا ایوریج رکھ کر نکالیں تو یہ سالانہ 7 بلین ڈالر بنتا ہے- جبکہ ن لیگ کے دور میں یہ 20 بلین ڈالر سالانہ سے زیادہ ہوتا تھا-
Comments
Post a Comment